Breaking

ملک کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں اوقاف  کی  زاہدات  خالیکرائے      

                      سانتھا سنت کبیر نگر- بہوجن مکٹی پارٹی کے لیڈر چودھری جاوید احمد خان نے بتایا ک بھارت کے تقریبا تمام پردےشو میں وقف کی املاک مجموعی طور کئی ملین ہیکٹر ہوں گی جن پر بڑے بڑے سیٹھ ساہوکار اور صنعت قتل کئے ہوئے ہیں جنہیں ملک آزاد ہونے کے بعد بھی خالی نہیں کرایا گیا ملک کی آزادی کے بعد ترتیب خصوصیات کی بحالی اور اس کی دیکھ بھال کے لئے مرکز اور ریاستوں میں ایک محکمہ کی تخلیق کیا گیا جسے وقف سیکشن کے نام سے جانتے ہیں اور وقف بورڈ بھی بنایا گیا لیکن حالات جس کا غالب بنا رہا ٹرسٹ کی املاک کا غلط استعمال اور اس کی آمدنی پر بدعنوانی کیا جاتا رہا لیکن زیادہ تر اثاثے آج بھی حکومت اور پبلک سیکٹر کے بڑے بڑے لوگوں سے خالی نہ کرایا ک نہ اس بات کا ثبوت ہے کی جتنی بھی سرکاری رہی سب کہیں نہ کہیں سے ان لوگوں سے ملی بھگت رہی موجودہ وقت میں اتر پردیش کی حکومت جیڈ اے ایکٹ 1950 سیکشن 132 کی زمین کو خالی کرانے کے نام پر براہ راست اور بالواسطہ طور پر ان لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جن کے پاس ان کے مکان وغیرہ کو انہدام کے بعد نہ تو ان کے پاس پیسہ ہے اور نہ ہی زمین ہے آخر قانون پر عمل کرانے کے نام پر یہ زیادتی کیا اشارہ دیتی ہے کہیں ایسا تو نہیں پردیش میں ترقی کا مسئلہ سڑک پر نہ آنے پائے جس سے لوگ حکومت سے سوا لی نا کر سکے پوری ریاست میں قانون پر عمل کے نام پر افراتفری بنی رہے مرکز اور بی جے پی علاقوں کی حکومتوں سے عوام سوال کرنے پر مجبور ہے کہ قانون پر عمل کے نام پر غریبوں کو اجاڑنا اگر جائز ہے تو ٹرسٹ کی خصوصیات پر جس کسی کا بھی قبضہ ہو ان کو بھی بے دخل کروائیں یا غریبوں کو اجاڑنے کی کارروائی بند کریں دوسری صورت عوام کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے وہ فیصلہ کرنا اچھی طرح جانتی ہے   

    چودھری جاوید احمد خان     

بی ایم پی سینٹ کبیر نگ

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top