اترپردیش

عورت کی حیاہی اس کا سب سے بڑاپردہ ہے

مکرمی ، ، شریعت نے پر دے کو فرض قرار دیا ہے ، جیسے نماز فر ض ہے اس طر ح پر دہ بھی فر ض ہے ۔کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا میڑ چوبیس گھنٹہ چلتا رہتا ہے کچھ لو گوں کا سو چنا ہے اللہ تعالی نے خوبصورتی دی ہے وہ چا ہتے ہیں کہ لو گ ہمیں دیکھیں جس کو نما ئش کر نا کہتے ہیں پر دہ کر نا تو دور کی با ت کپڑے ایسے ایسے پہنتی ہیں کہ بدن جھلکتا ہے بدن سے چپکے ہو ئے کپڑے پہنتی ہیں پر دے کے لئے بر قع استعمال کر تی ہیں تو ایسے کڑ ھائی والے خوب صورت بر قع ڈھونڈکر لا تیں ہیں جن کو دیکھ کر ہر انسان سو چتے ہیں کہ بر قع کے اندر تو حور کی بچی سے یہ اور بات ہے کہ اندر چڑیل کی بہن موجود ہو گی ایسے کپڑے اور پردے سے پر ہیز کر ے جس پر غیر مرد کی نظر خواہ مخواہ کھینچے یہ گناہ کی دعوت ہے اس لئے ایسا نہیں کر نا چا ہئے جوان بچیاں گھروں سے باہر نکلیں سادہ بر قع پہنیں مغربی کپڑے پہن کر نہ نکلیں ۔روایت ہے کہ جب حضرت فا طمہؓ کی وفات کا وقت قریب آگیا توحضرت فاطمہؓ نے اپنے شو ہر حضرت علیؓسے کہا کہ تیرے جنازے میں پو رے مدینے والوں جمع کر دوں گا حضرت فاطمہؓ کہتی ہیں کہ میرے والد جناب محمد ﷺنے مجھ سے کہا تھا کی بیٹی پر دے میں رہنا میں نے والد کے حکم کو پورا کر دیا کہ زندگی میں کسی مرد نے نہیں دیکھا اور میں چا ہتی ہوں کہ موت کے بعد بھی نہ دیکھے ۔ جب خاتون جنت حضرت فا طمہؓ کے تقوی کا یہ حال ہے تو آج کل کی عو رتیں کس کھیت کی مولی ہیں۔ دعاہے کہ اللہ تعالی عورتوں کو پردے کی اہمیت سمجھنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ آمین۔
سلمان کبیر نگری
ایڈیٹرنئی روشنی، برینیاں ، سنت کبیر نگر ، یوپی

Comments

comments

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Most Popular

To Top